Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
334 - 692
ہے کہ یہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا قَول یا فعل یا حال یا تقریر ہے۔''تقریر''سے مُراد یہ ہے کہ حضُورِ اقدس صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے کسی صَحابی نے کچھ کیا یا کہا اور حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سُکوت(یعنی خاموشی کو)اختیار فرمایا یہ''تقریر ''ہے۔ خبر:خبر اور حدیث اصل میں مُرادِف (یعنی ہم معنیٰ ہی)ہیں۔ مگر کچھ لوگ (یعنی کچھ محدّثینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہ السّلام)حُضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور صَحابہ و تابِعین رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اَجمَعِين کے اَقوال و اَفعال ہی کو حدیث کہتے ہیں اور سَلاطِین ،اُمَراء ، حُکاّم اور گُزَشتہ زمانے کے اَحوال کو خبر کہتے ہیں۔ حدیثِ مُتَواتِر :وہ حدیث ہے جس کے راوی ہر دَور میں اتنے زیادہ ہوں کہ عادت ان سب کے جُھوٹ پر مُتَّفق ہونے کو محال(یعنی ناممکن)قرار دے۔
خبرِ واحِد کی تعریف
سُوال:''خبرِواحِد ''کسے کہتے ہیں؟
جواب:جس حدیث میں''خبرِمُتَواتِر ''کی کوئی ایک شرط نہ پائی جائے وہ خبرِ واحد ہے۔
(شرح نخبۃ الفکر للعسقلانی ص 31)
Flag Counter