Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
332 - 692
جواب:میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: حدیثِ مُتواتِر کے انکار پر تکفیر کی جاتی(یعنی حکمِ کفر لگایا جاتا)ہے خواہ مُتواتِر بِاللَّفظ ہو یا مُتَواتِرُ المعنی اور حدیث ٹھہرا کر جو کوئی استخفاف کرے تو یہ مُطلقاً کفر ہے اگرچِہ حدیث اَحادبلکہ ضَعیف بلکہ فی الواقِع اس سے بھی نازِل (یعنی کم درجہ) ہو۔واللہ تعالیٰ اعلم
 (فتاوٰی رضویہ ج14 ص 280)
    حدیث ٹھہرا کر انکار کرنے کا معنیٰ یہ ہے کہ قائل یہ مراد لے کہ فُلاں بات سرکارِ کائنات صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ غَلَط ارشاد فرما دی تو یہ قائل قطعی کافر و مُرتَد ہے۔
مُنکرِحدیث کے بارے میں حکم
سُوال:جو مطلقاً حدیثِ کامنکِر ہو اور کہتا ہومیں صِرف قراٰنِ مجید کو مانتا ہوں''حدیث کاکوئی اعتبار نہیں'' اُس ٍکے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
جواب:ایسے منکرِحدیث کے بارے میں میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے
Flag Counter