Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
331 - 692
 حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:جو مسلمان کہلا کر فِقہ(یعنی دین کی سمجھ حاصل کرنے)کو اَصلاً(بِالکل بھی)نہ مانے(تو)نہ کِتابی (ہے) نہ خارِجی بلکہ مُرتَد ہے، اسلام سے خارِج ۔ اور اگر کوئی تاویل کرتا ہے تو کم از کم بد دین گمراہ۔(فِقہ یعنی ''دین کی سمجھ''کا ذکر قراٰنِ پاک میں موجود ہے)قَالَ اللہُ تعالٰی یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
 فَلَوْلَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ
ترجَمۂ کنزالایمان:تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہرگُروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصِل کریں ۔ (پ11 التوبہ 122)
 (فِقہ یعنی ''دین کی سمجھ''کاتذکرہ حدیثِ پاک میں بھی ہے چُنانچِہ)
 اور رسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ گرامی ہے:اللہ عَزَّوَجَلَّ جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتاہے وَاللہُ تَعالٰی اَعلمُ۔
( بُخارِی ج 1 ص42 حدیث71)
حدیث کاانکار کرنا کیسا؟
سُوال:کیا حدیث کاانکار کُفر ہوتا ہے؟
Flag Counter