| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
دولت کی تو قِیامت کے روز بھی ضَرورت پڑے گی کیونکہ جنّت میں داخِلے کیلئے بھی رشوت دینی پڑیگی!'' اِس جُملے کے بارے میں کیا حُکم ہے؟
جواب:اس منہ پھٹ مالدا رِ ذلیل و خوار کا یہ جملہ کفریہ ہے۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السلام فرماتے ہیں : اگر کہا :'' قِیامت میں رِضوانِ جنّت(یعنی نگران فرشتہ)کو کوئی چیز نہ دی تو وہ جنّت کا دروازہ نہ کھولیں گے''یہ کلِمۂ کفر ہے۔
(فتاوٰی عالمگیری ج2 ص 275)
قِیامت کے مُتَعلِّق کُفریات کی8 مثالیں
(1)قِیامت کا اِنکار کرنے والا کافر ہے۔
(فتاوٰی عالمگیری ج2 ص274، بہار شریعت حصہ اول ص 67)
(2)کسی سے کہا گیا:''دنیا چھوڑ تا کہ تجھے آخِرت ملے۔''اس نے کہا:''میں اُدھار کے بدلے نقد نہیں چھوڑتا''یہ قول کفر ہے۔
(اَلْبَحْرُ الرَّائِق ج5 ص 204)
(3)جو کہے:''مجھے گندُم دیدے میں قِیامت میں تجھے جَو دیدوں گا ''یہ قول کفر ہے کیونکہ اس میں قِیامت کا مذاق اُڑایا گیا ہے۔
(مِنَحُ الرَّوض ص521)