Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
325 - 692
قِیامت کے بارے میں سُوال جواب
سُوال:مر کر آدمی مِٹّی میں مِل کر ہمیشہ کیلئے ختم ہو جاتا ہے اب قِیامت میں کیا اُٹھنا تھا!یہ جملہ کیسا ہے؟
جواب:یہ خالِص کفّار کا عقیدہ ہے ۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام فرماتے ہیں:''مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا انکار کفرہے۔''
    (فتاوٰی عالمگیری ج2 ص274)
''قِیامت کی بِھیڑ میں چُھپ جاؤں گا''کہنا
سُوال:زَید نے بکر کو بے قُصُور چانٹا مارا۔ بکر نے بے قرار ہو کر کہا:قِیامت کے دن تم سے بدلہ لوں گا۔ اِس پر زید نے بکا:میں بِھیڑ میں چُھپ جاؤں گا!زید کے بارے میں حکمِ شرعی بیان کر دیجئے۔
جواب:زَیدِ بے قَید کا یہ قَول کفر ہے۔فُقَہائے کرام ر َحِمَہُمُ اللہُ السَّلام فرماتے ہیں :جو مظلوم سے کہے:تُو قِیامت کی بھیڑ میں مجھے کہاں تلاش کرسکتا ہے!یہ قَول کفر ہے۔
 (مِنَحُ الرَّوض ص 520)
''قِيامت میں دُ گنا دیدوں گا''کہنا
سُوال: ولید نے سعید کا قرضہ دبا لیا ،اِس پر سعید نے اُس کو خوفِ آخِرت دلایا
Flag Counter