جِنّ''آپ کے ہمزاد سے پوچھ لیتا ہے۔تو ہمزاد کے ذَرِیعے ملی ہوئی اِطِّلاع کو''علمِ غیب ''نہیں کہتے۔ ہر شخص کے ساتھ ایک ہمزاد بھی پیدا ہوتا ہے جو کہ کافِر جِنّ ہو تا ہے اور وہ ہر وقت ساتھ رہنے کی وجہ سے اس طرح کی باتیں دیکھتا رہتا ہے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَيہِ رحمۃُ الرَّحمٰن فریمسین یعنی جادوگروں کے ایک مخصوص ٹَولے کے بارے میں فرماتے ہیں:ایک شیطان عَلانیہ اس(جادوگر)کے ساتھ رہتا ہے جسے وہ دیکھتا ہے اور اس سے باتیں کرتا ہے اوروہ(شیطان) اسے یہ راز ظاہر کرنے سے ہر وَقت مانِع رہتا ہے اور یہی سبب ہے کہ فریمسین(یعنی اُنِھیں مخصوص جادو گروں میں کا کوئی فرد)اگر شہر کے ایک کَنارے سے گزرے تو دوسرے (جادوگر)کو جو شہر کے دوسرے کَنارے پر ہے اطِّلاع ہو جاتی ہے، کیونکہ ایک کا شیطان دوسرے کے شیطان کو اطِلّاع کر دیتا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔