سُوال:ایک عورت کہہ رہی تھی:اللہ تَعَالیٰ نے جب حضرت عِزرائِیل عَلَیْہِ السَّلام کو حکم دیا کہ لوگوں کی رُوْح تم قبض کیا کروگے ۔تواُنہو ں نے انکار کردیا!اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دوبا رہ حکم دیا۔ اُنہوں نے پھر انکار کرتے ہوئے عرض کی:اے میرے رب!عَزَّوَجَلَّ میں یہ کام نہیں کرسکتا، میرا دل بَہُت نَرْم ہے، میں کسی کو تکلِیف نہیں دے سکتا۔ حکم ہوا:تمہیں یہ کام کرنا ہی ہو گا اور رُوح قبض کرنا کوئی بُر ا کام بھی نہیں۔ چُنانچِہ حضرتِ عِزرائِیل عَلَیْہِ السَّلام لوگوں کی رُوحیں قبض کرنے لگے ،یہاں تک کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا دل بے حدسَخت ہوگیا۔مزید وہ عورت کہتی ہے :جب حضرتِ محمد مصطَفٰے صلی اللہ تعالیٰ عليہ واٰلہ وسلم سفرِ مِعراج پر تشریف لے گئے تو وہاں بھی حضرتِ