میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے کراماً کاتِبین دلوں کی نیّتیں بھی جان لیتے ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کتنا بڑا کرم ہے کہ نیکی کی صِرف نیّت کرنے پر ایک نیکی کاثواب مل جاتا ہے اور اگر بندہ گناہ کینیّت کرے تو کچھ نہیں لکھا جاتا حتّٰی کہ اگر گناہ کا ارادہ ترک کر دے تو اِس پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ برائی کا ارادہ ترک کرنے والے کو نیکی اسی صورت میں ملتی ہے جبکہ خوفِ خدا کی وجہ سے ایسا کرے اگر کسی مجبوری کے تحت گناہ سے باز رہا تو اُس کو نیکی نہیں ملی گی۔