Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
304 - 692
گناہ کاارادہ ترک کرنے پر نیکی ملنے کی صورت
  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے کراماً  کاتِبین دلوں کی نیّتیں بھی جان لیتے ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کتنا بڑا کرم ہے کہ نیکی کی صِرف نیّت کرنے پر ایک نیکی کاثواب مل جاتا ہے اور اگر بندہ گناہ کینیّت کرے تو کچھ نہیں لکھا جاتا حتّٰی کہ اگر گناہ کا ارادہ ترک کر دے تو اِس پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ برائی کا ارادہ ترک کرنے والے کو نیکی اسی صورت میں ملتی ہے جبکہ خوفِ خدا کی وجہ سے ایسا کرے اگر کسی مجبوری کے تحت گناہ سے باز رہا تو اُس کو نیکی نہیں ملی گی۔
     (ماخوذاز تفہیم البخاری ج9 ص 782)
 صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت حصّہ 16 صَفْحَہ258 پر فرماتے ہیں :''معصیت کا ارادہ کیا مگر اس کو کیا نہیں تو گناہ نہیں بلکہ اس میں بھی ایک قسم کا ثواب ہے، جبکہ یہ سمجھ کر باز رہا کہ یہ گناہ کا کام ہے، نہیں کرنا چاہیے۔ احادیث سے
Flag Counter