جواب:جی ہاں۔ اِس ضمن میں حدیثِ قُدسی مُلا حظہ فرمایئے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہوا کہ مدینے کے سلطانِ، سردارِ دوجہان،رحمتِ عالمیان ، سرورِ ذیشان ، محبوبِ رحمٰن عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:''جب میرا بندہ کسی گناہ کا ارادہ کرے اور اُس پر عمل نہ کرے تو اس کو مت لکھو اور اگر وہ اس پر عمل کرے تو اُس کا ایک گناہ لکھ لو۔ اور اگر وہ نیکی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ کرے تو ایک نیکی لکھ لو اور اگر وہ اس پر عمل کرے تو دس نیکیاں لکھ لو۔''ایک اور روایت کے مطابق اللہ کے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیب،طبیبوں کے طبیب ، عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:ملائِکہ عرض کرتے ہیں:پروردگار!تیرا بندہ گناہ کرنے کا ارادہ کر رہا ہے ۔ حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کواس بات پر خوب بصیرت ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:''اس کا انتِظار کرو، اگر یہ اس گناہ کو کرے تو اس کاگناہ لکھو اور اگر اس کو ترک کر دے تو اس کی ایک نیکی لکھ لو، کیونکہ اس نے میری وجہ سے اِس گناہ کو ترک کیا ہے۔''