رکھئے کہ عُمُوماً فرِشتوں کو حسبِ حاجت اُن کے شُعبے کے مُتَعَلِّق علمِ غیب تَفویض کیا جاتا ہے۔ مَثَلاً بادَلوں کو چلانے اور بارِش برسانے والے ملائکہ کو اِن امُور کے مُتَعَلِّق علمِ غیب دیا جاتا ہے۔اِسی طرح جَنِین یعنی ماں کے رِحم میں جو بچّہ ہوتا ہے اُس کے پیدا ہونے نہ ہونے، اُس کے رِزق وغیرہ حتّٰی کے قَبر کے مقام تک کا علم اُس پر مامور فرِشتوں کو عنایت فرمایا جاتا ہے ۔ اِسی طرح مَلَکُ الْمَوت سیِّدُنا عِزرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور ان کے مُعاوِنین ملائکہ کوتمام ذُوالاَْرواح کی اموات کے اوقات و مقامات سے باخبر کیا جاتا ہے ۔ یوں ہی مُحافِظین اعمال لکھنے والوں کو۔ پارہ30 سورۃُ الانفِطار آیت نمبر 10 تا 12 میں ارشادِ ربُّ العباد ہے: