عَرَبی لوگ قومِیّت کے اِعتِبار سے چُونکہ عَرَبی آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے نسبت رکھتے ہیں لہٰذا مَحَبَّت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جو اہلِ عرب مسلمان ہیں ان کو بُرا بھلا کہنے سے زَبان کوروکا جائے، ہاں اِن میں جوکفّار اور مُرتَدِین ہیں یقینا وہ بُرے ہیں اور ان کو بُرا ہی کہا جائے گا۔دیکھئے!ابولَہَب بھی عَرَبی تھا مگراُس کی مذمّت میں قراٰنِ پاک کی ایک پوری سورت سُورۂ لَہَب موجود ہے۔بَہَر حال اگر عَرَبِیوں میں سے کسی کی طرف سے بِالفرض آپ کو کوئی ذاتی تکلیف پَہنچ بھی گئی ہو تب بھی صبرسے کام لیجئے۔ یقینا اِس ایک کی ایذا دہی کی وجہ سے سب عَرَب ہرگز بُرے نہیں بن گئے۔اہلِ عَرَب سے مَحَبَّت کیلئے ہم غلامانِ مصطَفٰے کیلئے یِہی بات کافی ہے کہ ہمارے پیارے پیارے میٹھے میٹھے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم عَرَبی ہیں۔