| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: عَرَب کی مَحَبَّت ایمان ہے اور ان کا بُغْض کُفر ہے، جس نے عَرَب سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے ان سے بُغض رکھا اُس نے مجھ سے بُغض رکھا ۔
(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج2 ص66 حدیث 2537 )
تین وُجُوہ کی بِنا پر عَرَب سے مَحَبَّت رکھو، اس لئے کہ (1)میں عَرَبی ہوں (2)قُراٰنِ مجید عَرَبی ہے (3)اہلِ جنَّت کاکلام عَرَبی ہے۔
(شُعَبُ الْاِیْمَان ج2 ص230 حدیث 1610 )
عَرَب سے بُغض کب کُفْر ہے
حضرتِ علامہ مَناوی علیہ رحمۃاللہ القوی کے فرمانِ گرامی کا خُلاصہ ہے:سرکارِ نامدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم عَرَبی ہیں اور قراٰن بھی اہلِ عَرَب کی زَبان میں ہے، ان نِسبتوں کی وجہ سے اگر کوئی عَرَبوں سے بُغض رکھے تو اِس سے سلطانِ عَرَب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا بُغْض لازِم آئے گا جو کہ کُفر ہے۔
(فیضُ القدیر لِلمناوی ج3 ص231 تحتَ الحدیث 225)