جواب:واقِعی آج کل اکثر مسلمانوں میں یہ بلا عام ہے اِس سے بچنا ضِروری ہے ۔دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ الْمدینہ کی مطبوعہ 205صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''حصّہ6 صَفْحَہ31پر صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ''سب عربیوں سے بَہُت نرمی کے ساتھ پیش آئے، اگر وہ سختی کریں ادب سے تحمل (تَ۔حَمْ۔مُل یعنی برداشت)کرے اس پر شَفاعت نصیب ہونے کا وعدہ فرمایا ہے خُصُوصاً اہلِ حرمین،خُصوصاً اہلِ مدینہ۔ اہلِ عَرَب کے اَفعال پر اعتراض نہ کرے، نہ دل میں کدُورت (یعنی مَیل)لائے، اس میں دونوں جہاں کی سعادت ہے۔''(بہار شریعت )بِلامَصلَحتِ شَرعی کسی بھی مسلمان کو بُرا بھلا کہنے کی اجازت نہیں چِہ جا ئیکہ اہلِ عرب حضرات کوکہ یہ تو سرکارِ کائنات صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہم قوم ہیں ۔ بِالفرض کوئی اہلِ عَرَب کو سلطانِ عرب، محبوبِ رب عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نسبت کی وجہ سے بُرا کہے تو اُس پر حکمِ کفر ہے مگر مسلمان سے ایسا مُتَصَوَّر نہیں(یعنی سوچا بھی نہیں جا سکتا)۔اہلِ عَرَب کے بعض فضائل سنئے :محبوبِ رب، تاجدارِ عَرَب