یہ آیاتِ کریمہ ذکرکرنے کے بعدصَفْحَہ 275پر فرماتے ہیں:تو عِندَ اللہ (یعنی اللہ کے نزدیک رشتے داری سے علم کا رُتبہ)فضلِ علم فضلِ نسب سے اشرف و اعظم ہے۔یہ مِیر(سیِّد)صاحِب (جب)کہ عالم نہ ہوں اگر چِہ صالِح(نیک آدمی)ہوں (مگر)آج کل کے عالِم سُنّی صحیح العقیدہ کے مرتبہ کو شرعاً نہیں پہنچتے۔ تَنویر الابصار و دُرِّمختار میں ہے:نوجوان عالم کو بوڑھے جاہل پرتَقَدُّم(تَ۔قَد۔دُم یعنی آگے بڑھنے)کا حق حاصِل ہے اگر چِہ وہ (جاہل شخص)قَرشی(بلکہ سیِّد)ہو۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ عالموں کے درجے بلند فرمائے گا ۔ چُونکہ بُلندی عطا فرمانے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے لہٰذا جو اس کو گھٹائے گا اللہ تعالیٰ اس کو جہنَّم میں ڈالے گا۔