Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
288 - 692
 کرنے پر مجبور ہے، اُس کے سامنے اگر کسی سیِّد پرحد ثابِت ہوئی تو باوُجُود کہ ُاس پر حد لگانافرض ہے اوروہ حد لگائے گا ، لیکن اُس کو حکم ہے کہ سزا دینے کی نیِّت نہ کرے بلکہ دل میں یہ نیّت رکھے کہ شہزادے کے پَیر میں کیچڑ لگ گئی ہے اُسے صاف کر رہا ہوں۔
        (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت حصّہ سوم ص396 )
سیِّد اگر کُفْر بک دے تو سیِّد رہے گا یا نہیں؟
سُوال:اگر کوئی سیِّد صَرِیح کُفر بکنے کے باعِث مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلّ مُرتد ہو جائے تو اب وہ سیِّد رہا یا نہیں ؟
جواب :اِرتدِاد سے سِیادت جاتی رہتی ہے یعنی اب وہ سیِّد نہ رہا۔ حضرت سیِّدُنا نُوح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا نافرمان بیٹا  کنِعان جو کہ مُنافِق تھا ، خود کو صاحِبِ ایمان ظاہِرکرتا مگر حقیقۃً ایمان نہیں لایا تھا لہٰذا وہ بھی طوفان میں ڈوب کر ہَلاک ہوگیا ۔اس بیٹے کے بارے میں خدائے وَدُود عَزَّوَجَلَّ پارہ 12 سورۂ ھُودآیت نمبر46 میں ارشاد فرماتا ہے:
 یٰنُوۡحُ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنْ اَہۡلِکَ ۚ
ترجَمۂ کنزالایمان:اے نوح ! وہ تیرے گھر والوں میں نہیں۔ (پ12 ھود 46)
Flag Counter