| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَيہِ رَحمۃُ الرَّحمٰن کی خدمت میں سُوال ہوا:سیِّد کے لڑکے سے جب شاگرد ہو یا ملازِم ہو دینی یا دُنیوی خدمت لینا اور اس کو مارنا جائز ہے یانہیں؟ الجواب:ذلیل خدمت اس سے لینا جائز نہیں، نہ ایسی خدمت پر اُسے ملازِم رکھنا جائز۔اور جس خدمت میں ذلّت نہیں اس پر ملازِم رکھ سکتا ہے، بَحالِ شاگردبھی جہاں تک عُرف اور معروف ہو (خدمت لینا)شرعاً جائز ہے،لے سکتا ہے اور اسے (یعنی سیِّد کو)مارنے سے مُطلَق اِحتراز(یعنی بالکل پرہیز)کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(فتاوٰی رضویہ ج22ص568)
سیِّد ملازِم کے ساتھ سُلُوک کا انداز
جناب سیِّد ایُّوب علی صاحِب (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)کا بیان ہے:ایک کم عُمر صاحِبزادے خانہ داری کے کاموں میں امداد کیلئے (اعلیٰ حضرت کے)کاشانۂ اقدس میں ملازِم ہوئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سیِّد زادے ہیں۔ لہٰذا (حضور اعلیٰ حضرت نے)گھر والوں کو تاکید فرما دی کہ صاحِبزادے سے خبر دار کوئی کام نہ لیا جائے کہ مخدوم زادہ ہیں۔