خواب میں جنابِ رسالتِ مآب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اس حال میں زیارت ہوئی کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اُس سے اِعراض فرما رہے (یعنی رخِ انور پھیر رہے)ہیں ۔ اُس نے عرض کی:یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم !میرا کیاگناہ ہے؟ فرمایا:تُو مجھے مارتا ہے ،حالانکہ میں قِیامت کے دن تیرا شفیع (یعنی شَفاعت کرنے والا)ہوں۔ اس نے عرض کی، یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم !مجھے یاد نہیں کہ میں نے آپ کو مارا ہو۔ارشادفرمایا:کیا تُو نے میری اولاد کو نہیں مارا؟ اُس نے عرض کی:ہاں۔ فرمایا: تیری ضَرب میری ہی کلائی پر لگی۔ پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی مبارک کلائی نکال کر دکھائی جس پر وَرم تھا جیسے کہ شہد کی مکّھی نے ڈنک مارا ہو۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافِیّت کا سُوال کرتے ہیں۔