Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
282 - 692
توقیر و تعظیم ہیں۔ اور اس پر پورا عمل کرنے والا میں نے اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہُ العزیز کو پایا۔ اس لئے کہ کسی سیِّد صاحِب کو وہ اُس کی ذاتی حیثیَّت و لیاقت سے نہیں دیکھتے بلکہ اِس حیثیَّت سے مُلاحَظہ فرماتے کہ سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ''جُزء''ہیں۔ پھر اِس اِعتِقاد و نظر یہ کے بعد جو کچھ اِن (ساداتِ کرام)کی تعظیم و توقیر کی جائے سب دُرُست و بجا ہے۔ اعلیٰ حضرت اپنے قصیدہئ نور میں عرض کرتے ہیں۔  ؎
تیری نسلِ پاک میں ہے بچّہ بچّہ نور کا 		تُو ہے عَینِ نور تیرا سب گھرانا نور کا
(حیات اعلیٰ حضرت ج1 ص179)
 اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
اہلبیت پر ظُلم کرنے والے پر جنّت حرام ہے
سُوال:سیِّدوں پر ظلم کرنا کیسا ہے؟
جواب:حرام ہے اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔ چُنانچِہ سرورِ دو عالم ، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسول مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلَّم
Flag Counter