Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
281 - 692
 اگر چِہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں ، اُن اعمال کے سبب اُس سے تَنَفُّرنہ کیا (یعنی نفر ت نہ کی )جائے، نفسِ اعمال سے تَنَفُّر (فَقَط اس کی برائیوں سے نفرت)ہو۔ آگے چل کر اسی صَفْحَہ پر مزید فرماتے ہیں:ساداتِ کرام کی انتہائے نَسب حُضُور سیِّد عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ہے ، (یعنی ان کے جدِّ اعلیٰ تو مکّی مَدَنی مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں!)اس فضلِ انتِساب (یعنی اِس شَرَفِ نسبت ) کی تعظیم (عام سے مسلمان تو کیا)ہر مُتَّقِیپر (بھی)فرض ہے (کیوں )کہ وہ اس (سیِّد صاحب)کی تعظیم نہیں (بلکہ خود)حضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی تعظیم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔
اعلیٰ حضرت ساداتِ کِرام کی تعظیم کیوں کرتے تھے؟
سُوال:مشہور ہے کہ اعلیٰ حضرت ساداتِ کرام کی بَہُت زیادہ تعظیم بجا لاتے تھے اس کی اصل وجہ کیا ہے؟
جواب:ملِکُ الْعُلَماءمولیٰناظَفَرُ الدّین قادری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:ساداتِ کرام جُزءِ رسول(یعنی نبیِّ پا ک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جسمِ مُنَوَّر کا ٹکڑا)ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ مستحق
Flag Counter