اگر چِہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں ، اُن اعمال کے سبب اُس سے تَنَفُّرنہ کیا (یعنی نفر ت نہ کی )جائے، نفسِ اعمال سے تَنَفُّر (فَقَط اس کی برائیوں سے نفرت)ہو۔ آگے چل کر اسی صَفْحَہ پر مزید فرماتے ہیں:ساداتِ کرام کی انتہائے نَسب حُضُور سیِّد عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ہے ، (یعنی ان کے جدِّ اعلیٰ تو مکّی مَدَنی مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں!)اس فضلِ انتِساب (یعنی اِس شَرَفِ نسبت ) کی تعظیم (عام سے مسلمان تو کیا)ہر مُتَّقِیپر (بھی)فرض ہے (کیوں )کہ وہ اس (سیِّد صاحب)کی تعظیم نہیں (بلکہ خود)حضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی تعظیم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔