| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
طرح ارشاد فرمایا:تمہارے اعمال اچّھے ہوتے تو عبداللہ بن مبارک تمہاری کیوں بے ادَبی کرتے !حضرت سیِّدنا عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بصد ندامت سیِّد صاحِب سے معافی مانگی اور سیِّد صاحِب نے بھی گناہوں سے توبہ کر کے نیکیاں کرنے کی اچّھی اچّھی نیّتیں کیں۔
(ماخوذاز تذکرۃ الاولیاء جزء اول ص 170)
اللہ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
سادات سے حسنِ سُلُوک کی فضیلت
میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَيْہِ رَحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 10 صَفْحَہ 105 پر ساداتِ کرام کے فضائل بیان کرتے ہوئے نَقل کرتے ہیں:ابنِ عساکِر امیرُ الْمُؤمِنِین حضرت علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہ تعالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے راوی، رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں:جو میرے اہلِ بَیت میں سے کسی کے ساتھ اچّھا