تشریف لئے جا رہے تھے کہ اِثنائے راہ ایک سیِّد صاحِب مل گئے اور کہنے لگے :آپ کے بھی کیا خوب ٹھاٹھ باٹھ ہیں اور ایک میں بھی ہوں کہ سیِّد ہونے کے باوُجُود مجھے کوئی نہیں پوچھتا ! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:میں نے آپ کے جدِّ اعلیٰ مکّی مَدَنی مصطَفٰے صلَّی للہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنّتوں کو اپنایا تو خوب عزّت پائی مگر آپ نے اپنے نانا جان کی سنّتوں کونہ اپنایا تو بے عملی کے سبب پیچھے رہ گئے !سیِّدُنا عبد اللہ بن مبارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رات جب سوئے تو خواب میں جنابِ رسالت مَآب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زِیارت ہوئی، چہرۂ انور پر ناراضگی کے آثار تھے، کچھ اس طرح فرمایا:تم نے میری آل کو بے عملی کا طَعنہ کیوں دیا!آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بے قرار ہو کر بیدار ہو گئے ۔ صبح مُعافی مانگنے کیلئے اُس سیِّد صاحِب کی تلاش میں روانہ ہوئے، موصوف بھی انہیں کو ڈھونڈ رہے تھے۔ دونوں کی ملاقات ہوئی۔ سیِّدنا عبداللہ بن مبار ک ر حمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنا خواب سنایا۔ سیِّد صاحِب نے سُن کر کہا:مجھے بھی رات میرے نانا جان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خواب میں تشریف لا کر کچھ اس