| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 22 صَفْحَہ 420 پرفرماتے ہیں:ساداتِ کرام کی تعظیم فرض ہے اور اُن کی توہین حرام ، بلکہ علمائے کرام نے ارشاد فرمایا: جو کسی عالم کومَولوِیا (مَو ل۔وِیا)یا کسی مِیر(یعنی سیِّد)کو مِیروا بروجہ تحقیر(یعنی حَقارت سے)کہے کافر ہے۔
''آج کل کے سیِّد بس ایسے ہی ہوتے ہیں'' کہنا کیسا؟
سُوال:بعض لوگ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ آج کل کے سیِّدبس ایسے ہی(یعنی بُرے)ہوتے ہیں ۔ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:یہ قول بَہُت ہی بُرا ہے اگر اِس جُملے سے یہ مُراد ہے کہ اُن کو اہلبیت تسلیم کرنے کے باوُجُود بطورِ سیِّد ان کی توہین کر رہے ہیں تو یہ کُفر ہے۔''سیِّد''کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشِش کیجئے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''سیِّدحَسَنیَنِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اولاد کو کہتے ہیں۔''
(ماخوذ از فتاوٰی رضویہ ج13 ص361)
عبداللہ بن مبارَک اور ایک سیِّد صاحِب کی حِکایت
حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن مبارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک بار کہیں