ترجَمۂ کنزالایمان:یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔
مزید فرماتے ہیں :جو اسے کسبی(یعنی کوشِش سے حاصِل کی ہوئی) مانے کہ آدمی اپنے کسب و رِیاضت (محنت و مشقَّت )سے مَنصبِ نُبُوّت تک پہنچ سکتا ہے کافِر ہے۔
(بہارِ شریعت ج1 حصہ 1ص36)
نبی کو بندہ کہنے سے انکار کرنے والے کا حکم
سُوال:اُس کیلئے کیا حکم ہے جو یہ کہے کہ میں حُضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ نہیں مانتا۔
جواب:ایسا شخص مُرتَد ہے۔ قراٰنِ پاک میں مُتَعَدَّد مقامات پر ایسی آیات ہیں جن میں سرورِکائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ کہا گیا ہے ۔ ہر نَمازی پانچوں وقت نَماز کے قَعدے میں کلمۂ شہادت پڑھتا اور اقرار کرتا ہے :
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ ہ ٗ