Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
270 - 692
جواب:جی نہیں۔ نُبُوَّت کسبی یعنی اپنی کوشش سے حاصِل کی ہوئی نہیں ہوتی ، وَہبی یعنی عطائی ہوتی ہے۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت'' جلد اوّل صَفْحَہ 36پر صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:نُبُوَّت کسبی نہیں کہ آدمی عبادت و ریاضت کے ذَرِیعہ سے حاصِل کر سکے بلکہ محض عطائے الہٰی ہے کہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے دیتا ہے ۔ہاں دیتا اُسی کو ہے جسے اِس منصبِ عظیم کے قابِل بناتا ہے۔ جو قبلِ حُصُولِ نُبُوّت تمام اَخلاقِ رَذِیلہ سے پاک اور تمام اَخلاقِ فاضِلہ سے مُزَیَّن ہو کر جُملہ مَدارِجِ وِلایت (ولایت کے تمام درجات)طے کر چکتا ہے اور اپنے نسب و جسم و قول و فعل و حرکات و سکنات میں ہر ایسی بات سے مُنَزَّہ(پاک) ہوتا ہے جو باعِث نفرت ہو ۔ اُسے عقلِ کامِل عطا کی جاتی ہے جو اوروں کی عقل سے بَدَرَجَہا زائد ہے کسی حکیم اور کسی فلسفی کی عقل اُس کے لاکھویں حصّہ تک نہیں پہنچ سکتی(قراٰنِ حکیم پارہ 8 سورۃُ الانعام آیت