صدرُ الشَّریعہ ، بَدرُ الطَّریقہ،حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:انبِیاء عَلَیْہِمُ السَّلام اور اولیائے کرام و عُلَمائے دین وشُہَداء و حافِظانِ قراٰن کہ قراٰنِ مجید پر عمل کرتے ہوں، اور وہ جومَنصبِ مَحَبَّت پر فائِز ہیں، اور وہ جسم جس نے کبھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مَعصیَّت نہ کی، اور وہ کہ اپنے اوقات دُرُود شریف میں مُستَغرق(یعنی نہایت مصروف)رکھتے ہیں اُن کے بدن کو مٹّی نہیں کھا سکتی۔جو شخص انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلام کی شان میں یہ خبیث کلمہ کہے کہ مَرکر مٹّی میں مل گئے،گمراہ ، بددین ،خبیث ، مُرتکبِ توہین ہے۔
(بہارِ شریعت حصہ اول ص 57)
کیاحیاتُ النَّبی کہنا جائز ہے؟
سُوال:کیاحیاتُ النّبی کہنا جائز ہے؟