Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
261 - 692
 ائمَّۂ دین (رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِین)نے اس کی تَصریح فرمائی بلکہ ایک جماعتِ عُلَمائے کرام (رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام)نے اُسے کفر بتایا۔ مولیٰ (عَزَّوَجَلَّ ) کو شایاں ہے کہ اپنے محبوب بندوں کو جس عبارت سے تعبیر(یعنی جو چاہے)فرمائے(مگر)دوسرا کہے تو اُس کی زَبان گُدّی کے پیچھے سے کھینچی جائے ۔
وَ لِلہِ الْمَثَلُ الۡاَعْلٰی ؕ
(ترجَمۂ کنزالایمان:اللہ(عَزَّوَجَلَّ)کی شان سب سے بلند ۔ (پ 14 النحل60) ) بِلاتَشبِیہ یوں خیال کرو کہ زید نے اپنے بیٹے عَمرو کو اُس کی کسی لغزِش یا بھول پر مُتَنَبِّہ (یعنی خبر دار) کرنے ،ادب دینے، حَزم وعَزم و احتیاطِ اَتَم(یعنی آداب واحتیاط)سکھانے کے لئے مَثَلاًبیہودہ، نالائق، احمق، وغیرہا الفاظ سے تعبیر کیا (کہ)باپ کو اس کا اختیار تھا۔ اب کیا عَمرو کا بیٹا بکر یا غلام خالد انھیں الفاظ کوسَنَد بنا کر اپنے باپ اور آقا عَمرو کو یہ الفاظ کہہ سکتا ہے؟ حاشا!(ہرگز نہیں )اگر کہے گا(تو)سخت گستاخ ومَردودو ناسزا ومُستَحقِ عذاب و تعزیر وسزا ہو گا۔جب یہاں یہ حالت (یعنی عام باپ بیٹوں کا یہ مُعامَلہ )ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِیس کر کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی شان میں ایسے لفظ کا بکنے والا کیونکر سخت شدید و مدید عذابِ جہنَّم
Flag Counter