حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ایمان افروز واقعہ
سُوال:حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا واقِعہ بیان کردیجئے۔
جواب:حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے جب یہودیوں کے سامنے اپنی نُبُوَّت کا اعلان فرمایا تو چُونکہ یہودی تَوراۃ شریف میں پڑھ چکے تھے کہ''حضرتِ عیسیٰ مسیح (علیہ السلام)ان کے دین کے بعض احکام کو منسوخ کر دیں گے۔ اس لئے وہ آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے دشمن ہوگئے ۔ یہاں تک کہ جب حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے یہ محسوس فرما لیا کہ یہودی اپنے کفر پر اَڑے رہیں گے اور وہ مجھے شہید کر نے کے در پے ہوں گے تو ایک دن آپ (عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)