بَہَر حال خدائے ذوالجلال عَزَّوَجَلَّ نے بشمول حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام تمام انبِیائے کرام عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو علمِ غیب سے نوازا ہے ۔ انبِیاءِ کرام عَلٰی نَبِیِّنا وَ عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی تو بڑی شان ہے، بَعطائے ربُّ ا لانام، بفیضانِ انبِیاء ِکرام عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اولیائے عُظام رَحِمَہُمُ اللہُ السلام بھی غَیب کی خبریں بتا سکتے ہیں ۔ چنانچِہ حضرتِ سیّدُناشاہ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی علیہ رحمۃُ اللہ القوی نے اَخْبارالْاَخْیار میں حُضُورغوثِ پاک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا یہ ارشادنقل کیاہے: اگر شریعت نے میرے منہ میں لگام نہ ڈالی ہوتی تو میں تمہیں بتا دیتا کہ تم نے گھر میں کیا کھایا ہے اور کیا رکھا ہے، میں تمہارے ظاہِر و باطِن کو جانتا ہوں کیونکہ تم میری نظرمیں(آر پار نظر آنے والے)شیشے (کانچ کی بوتل)کی طرح ہو۔