روک دیا ۔ اور کہا کہ(حضرت)عیسیٰ(معاذاللہ عَزَّوَجَلَّ )جادوگر ہیں۔ جب(حضرت سیِّدُنا)عیسیٰ (روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)بچّوں کی تلاش میں بستی کے اندر داخِل ہوئے تو بنی اسرائیل نے اپنے بچّوں کو ایک مکان کے اندر چھپا دیا اور کہہ دیا کہ بچّے یہاں نہیں ہیں۔ آپ (عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)نے پوچھا کہ گھرمیں کون ہیں ؟ تو شریروں نے کہہ دیا کہ گھر میں خِنزِیربند ہیں۔ تو آپ(عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)نے فرمایا کہ اچّھا خِنزیر ہی ہوں گے ۔ چُنانچِہ لوگوں نے اِس کے بعد جب مکان کا دروازہ کھولا تو مکان میں سے سُوَّر ہی نکلے!اس بات کا بنی اسرائیل میں چرچا ہو گیا اوران لوگوں نے غیظ و غضب میں بھر کر آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کوشہید کرنے کا منصوبہ بنا لیا ۔ یہ دیکھ کر (حضرتِ سیِّدُنا)عیسیٰ (روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)کی والدہ(حضرت سیِّدتُنا بی بی)مریم (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)آپ (عَلٰی نَبِیِّنا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)کو ساتھ لے کر مِصر کو ہجرت کر گئیں اور اس طرح آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام شریروں کے شر سے محفوظ