| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
سورۂ اٰلِ عِمران کی آیت نمبر49 میں مُلاحَظہ فرما لیجئے۔خدائے رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے مقدّس قراٰن میں حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا یہ فرمانِ عظمت نشان بیان کیا گیا ہے :
وَاُبْرِیُٔ الۡاَکْمَہَ وَالۡاَبْرَصَ وَاُحۡیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللہِ ۚ
ترجَمۂ کنزالایمان:اور میں شِفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اورسپید داغ والے (یعنی کوڑھی)کو اور میں مُردے جِلاتا ہوں اللہ(عَزَّوَجَلَّ)کے حکم سے۔ (پ 3 اٰلِ عمران 49)
دیکھا آپ نے؟حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامصاف صاف اِعلان فرما رہے ہیں کہ مَیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بخشی ہوئی قدرت سے مادَر زاد اندھوں کو بِینائی اور کوڑھیوں کو شِفا دیتا ہوں حتّٰی کہ مُردوں کو بھی زندہ کر دیا کرتا ہوں۔
حضرتِ عیسیٰ علیہِ السّلام کا علمِ غیب
حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے علمِ غیب شریف کے بارے میں ان ہی کا قول بیان کرتے ہوئے