| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
تعالیٰ علیہ وسلم کے مُماثِل (برابر)کہنا حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صَریح (کھلی )توہین اورکُھلا کفر ہے۔ یہ(یعنی اوپر بیان کردہ پانچوں نمبروں کے)سب مسائل ضَروریاتِ دین سے ہیں اور اُن کا منکِر(انکار کرنے والا)، ان میں ادنیٰ(معمولی)شک لانے والا قَطْعاً کافر۔ یہ قِسم اوّل ہوئی۔
(6)اولیائے کرام
(7)اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے محبوبوں خُصُوصاً سیِّدُ الْمحبوبین صلی اﷲتعالیٰ علیہ و علیھم وسلم کو غُیُوبِ خَمسہ (پانچ عُلوم ِغَیْبِیَّہ )سے بَہُت جُزئِیّات کا علم بخشا جو یہ کہے کہ خَمس(یعنی پانچ) میں سے کسی فرد(حصّے)کا علم
نَفَعنَا اللہُ تَعَالٰی بِبَرَکاتِھِمْ فِی الدَّارَیْن
(اللہ عَزَّوَجَلَّ دونوں جہاں میں ان کی برکتوں سے ہمیں مالامال کرے)کو بھی کچھ عُلومِ غیب ملتے ہیں مگربَوَساطتِ رُسُل علیھم الصلٰوۃ وَالسّلام(یعنی رسولوں کے ذریعے )۔مُعتزِلہ (نامی باطِل فرقہ)خَذَ لَہُمُ اللہُ تَعالٰی(اللہ تعالیٰ ان کو غارت کرے)کہ صرف رسولوں کے لئے اِطّلاعِ غیب مانتے اور اولیائے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا عُلومِ غیب کا اصلاً (بالکل)حصّہ نہیں مانتے گمراہ و مُبْتَدِع (بد عتی)ہیں۔