| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
جاتا ہے بلکہ اس (یعنی علیہ السلام )سے مقصود صاحِبِ اِسم(یعنی جس کانام ہے اُس)کی تعظیم ہے ۔عُرفِ اَہلِ اسلام نے اس سلام(یعنی علیہ السلام لکھنے بولنے)کو انبِیاء و ملائکہ کے ساتھ خاص کر دیا ہے۔ مَثَلاً حضرتِ ابراھیم علیہ السّلام حضرتِ موسیٰ علیہ السّلام حضرتِ جبرئیل علیہ السّلام حضرتِ میکائیل علیہ السّلام ۔ لہٰذا غیرنبی و مَلَک (نبی اور فرشتے کے علاوہ)کے نام کے ساتھ علیہ السّلام نہیں کہنا چاہئے ۔ وَاللہُ تَعالٰی اَعلَمُ۔
(فتاویٰ امجدیہ ج4 ص 243۔245)
مُعجِزاتِ اَنبِیاء کاانکار کرنے والے کا حکم
سُوال:انبِیائے کرام عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیھمُالصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے مُعجزات کو غَلَط بتانے والاکیسا ہے؟
جواب:معجزات کومُطلَقاً غَلَط بتانے والاکافر و مُرتَد ہے۔
( فتاوٰی رضویہ ج14 ص 323)
نبی کے علمِ غیب کا مُنکِر مسلمان ہے یا کافر؟
سُوال:نبی کے علمِ غیب کا منکر مسلمان ہے یا کافر؟
جواب:علم غیب کا انکار کرنا بعض صورَتوں میں کُفر ہے بعض صورَتوں میں
جواب:اِس جملے میں عُلَماء کی توہِین کا پہلو بھی ہے اگر واقعی توہین کے طور پر کہا تو کفر ہے۔