Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
242 - 692
''عرشِ اعظم پہ رب''والا شعر پڑھنا کیسا؟
سُوال:یہ شِعر دُرُست ہے یا نہیں؟
عرشِ اعظم پہ رب سبز گنبد میں تم         کیوں کہوں میرا کوئی سہارا نہیں

میں مدینے سے لیکن بَہُت دُور ہوں        یہ خَلِش میرے دل کو گوارا نہیں
جواب:اِس شِعر کے ابتدِائی الفاظ ''عرشِ اعظم پہ رب ''عَزَّوَجَلّ َمیں بظاہِر مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ عرشِ اعظم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا مکان مانا گیا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے مکان ماننا کُفرِ لُزومی ہے۔ اگر اِس شِعر کی ابتِداء میں '' عرشِ اعظم کارب''عَزَّوَجَلَّ پڑھیں تو شعر شرعی گرفت سے نکل جائے گا۔
''جب روزِ حَشر تخت پہ بیٹھے گا کبرِیا''کہنا کیسا؟
سُوال:نَماز کی تلقین سے مُتَعَلِّق ایک نَظم کیسِٹ میں سُنی جاتی ہے ،اُس میں بے نَمازی کے مَذَمَّت میں پڑھے جانے والے اِس شِعر کے بارے میں حکمِ شَرعی کیا ہے؟
جب  روزِ  حشر  تخت  پہ بیٹھے گا کِبرِیا            شرم وحیا سے اُس گھڑی سر کو جھکاؤ گے

اُس وقت کیا کہو گے  تمہیں آئے گی حیا            جنَّت  تو  کیا  ملے گی جہنَّم میں جاؤ گے
Flag Counter