Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
240 - 692
والاکہنے کے بارے میں مزید معلومات درکار ہو تو فتاوٰی امجدیہ جلد4صَفْحَہ 260 پر فتویٰ ملاحَظہ فرما لیجئے ۔
مَنْقَبت میں''مُکھڑا ''بولنا کیسا؟
سُوال:بزرگوں کی مَناقِب میں تَصغیر والے الفاظ مَثَلاً مُکھ کے بجائے مُکھڑا،  آنکھ کے بجائے انکھڑی وغیرہ لکھنا بولنا کیسا؟
جواب:منع ہے ۔بُزُرگوں کی شان میں بھی آداب کا خیال رکھنا ضَروری ہے۔ چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن کی خدمت میں سُوال ہوا:(اس مصرع)''مجھے اپنا مُکھڑا دِکھا شاہِ جِیلاں ''میں مُکھڑا کا استِعمال ٹھیک ہے یا نہیں؟ بَیِّنُوا تُوْجَرُوا۔(بیان فرمایئے اَجْر پایئے) جواباً ارشاد فرمایا:یہ لفظ تَصغیر کا ہے، اکابِر (یعنی بُزُرگوں)کی مَدح(یعنی تعریف و توصیف)میں مَنْع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔
 (عرفانِ شریعت ص 39)
''چِہرہ ''اور ''جلوہ''یہ دونوں مُکھڑاکے ہم وزن الفاظ ہیں، لہٰذا ''مجھے اپنا جلوہ دِکھا شاہِ جِیلاں ''کہنے سے اَدب بھی برقرار رہے گا اور کلام کا حُسن بھی دو بالا ہوجائیگا۔ اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
Flag Counter