| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
(خلاصہ:میں اپنے کلام سے خوب لطف اندوز ہو رہا ہوں کیوں کہ مجھ پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا احسان ہے کہ میرا کلام فضول باتوں سے محفوظ ہے۔ الحمد للہ میں نے قراٰنِ پاک سے نعت گوئی سیکھی ہے۔ مطلب یہ کہ الحمد للہ میرا کلام شریعت کے عین مطابق ہے)
سیِّدی احمد رضا نے خوب لکھا ہے کلام اُن کے سارے نعتیہ َاشعار پر لاکھوں سلام
کَمَلْیَا والا کہنا کیسا؟
سُوال:نعتیہ اشعار میں سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کملیا والابول سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب:نہیں بول سکتے۔ یہ قاعِدہ یا د رکھ لیجئے کہ جس کسی چیز کی نسبت تاجدارِ حرم، شَہَنْشاہِ عرب و عجم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ہو وہ مُعظَّم ومحترم ہے لہٰذا اُس کی تَصغِیرمُطْلقاًممنوع ہے۔ مَثَلاً یہی کمل کی تَصغِیر کملیا، مکھ کی مُکھڑا، آنکھوں کی انکھڑیاں ، نگر کی نَگََرْیَا ہے۔ بارگاہِ محبوبِ ربّ ذوالجلال عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں اِس طرح کے تَصغیر والے اَلفاظ کا استِعمال ممنوع ہے۔کملیا