Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
238 - 692
سُوال:کیا غیر عالم شاعر کا کلام پڑھنے سننے کی بھی کوئی صورت ہے؟
جواب:اگر غیرِ عالم شاعِر کا کلام پڑھنا سننا چاہیں تو کسی ماہرِ فن سنّی عالِم سے اُس کلام کی پہلے تصدیق کروا لیجئے۔ اِس طرح اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ایمان کی حفاظت میں مدد ملے گی، ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی کُفریہ شِعرکے معنیٰ سمجھنے کے باوُجُود اس کی تائید کرتے ہوئے جُھومنے اور نعرہائے دادو تحسین بُلند کرنے کے سبب ایمان کے لالے پڑ جائیں ۔ غیر عالمِ کو نعتیہ شاعری سے اوَّلاً بچنا ہی چاہئے اور ان اہم مسائل کے علم سے قبل اگر کچھ کلام لکھ بھی لیا ہے توجب تک اپنے تمام کلام کے ہر ہرشعر کی کسی فَنِّ شِعری کے ماہرعالمِ دین سے تفتیش نہ کروا لے اُس وَقت تک پڑھنے اور چھاپنے سے مُجْتَنِب(دُور)رہے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ چُونکہ پائے کے عالمِ دین تھے، آپ کے شعر کا ہر مِصرع عین قراٰن وحدیث کے مطابق ہوا کرتا تھا لہٰذا بطورِ تحدیثِ نعمت اپنے مبارَک کلام کے بارے میں ایک رُباعی ارشاد فرماتے ہیں  ؎
ہوں اپنے کلام سے نہایت مَحظُوظ        بے جا سے ہے
اَلْمِنُّۃ  للہ
مَحفوظ

قراٰن سے میں نے نعت گوئی سیکھی        یعنی رہے اَحکامِ شریعت مَلْحوظ
Flag Counter