Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
235 - 692
لحاظ نہیں کرتی اِس وجہ سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ قصداً صِرف دو شُعرائے کرام (1)حضرت مولیٰنا کفایت علی کافیؔاور(2)حضرت مولیٰنا حسن رضا خان رحمہما اللہ تعالیٰ کا کلام سماعت فرماتے تھے۔ چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مَطبوعہ561 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت'' صَفْحَہ 225 پر ہے:ایک صاحِب،(حضرت)شاہ نیاز احمد صاحِب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے عُرس میں بریلی تشریف لائے تھے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضِر ہوئے ، کچھ اشعار نعت شریف کے سنانے کی درخواست (یعنی نعتِ پاک پڑھنے کی خواہش ظاہِر )کی۔ (اعلیٰ حضرت نے)اِستِفسار فرمایا:کس کا کلام؟انہوں نے (کلام لکھنے والے کا نام )بتایا اِس پر ارشاد فرمایا:سِوا دو(شُعَرا) کے کلام کے کسی کا کلام میں قصداً(یعنی ارادۃً اپنی خواہش سے )نہیں سنتا ، (فقط ان دو یعنی )مولانا (کِفایت علی)کافیؔ اور (میرے بھائی) حسن ؔمیاں مرحوم کا کلام(سنتا ہوں )۔صَفْحَہ227 پر مزید فرماتے ہیں: اور حقیقۃً نعت شریف لکھنا نہایت مشکِل ہے جس کو لوگ آسان