| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
نعت خوان جب)اَشعار گائیں تو شُعراء بے شُعُور(یعنی نادان شاعِروں )کے(کہ جِن میں)انبیاء کی توہین ، خدا پر اِتِّہام (تہمت ) اور (پھر)نعت و مَنقَبت کانام بدنام ، جب تو(ایسی محفِل میں)جانا بھی گناہ ، بھیجنا بھی حرام اور اپنے یہاں (ایسی محفِل کا)اِنعِقاد مجمعِ آثام، (یعنی گناہوں بھرا اجتِماع)آج کل اکثر مَواعِظ و مجالسِ عوام کا یِہی حالِ پُر ملال ۔
فَاِنَّاللہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔
(ایضاً ج22 ص 231)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سرکارِ اعلیٰ حضرت، امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃ الرحمٰن کے ارشاداتِ عالِیَّہ کا خُلاصہ یِہی ہے کہ جاہِل نعت گوشاعروں کے کلام بَسااوقات کفرِیّات سے بھر پور ہوتے ہیں لہٰذا ایسے کلام پڑھنے والوں کو محفلِ نعت میں بلانا بھی ناجائز ،ایسی نعت خوانی میں کسی کو بھیجنا بھی حرام اور ایسے کلام کا سننا بھی گناہ۔
اعلیٰ حضرت دو کے علاوہ قصداً کسی کا (اردو)کلام نہ سنتے
سُوال:اعلیٰ حضرت کون کون سے شُعرا کانعتیہ کلام سننا پسند فرماتے تھے؟
جواب:نعت گو شاعروں کی اکثریت اپنے کلام میں چُونکہ اَحکام ِشریعت کا