Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
233 - 692
 نہیں چاہئے؟
جواب:جو علمائے اہلسنّت کا صحبت یافتہ ہو، شریعت کے ضروری احکام جانتا ہو اور ہر ہر مِصرع شرعی تفتیش کسی عالمِ سے کروا لیا کرتا ہو اس کے لکھنے اور اُس کا لکھا ہوا علماء کا تفتیش شدہ کلام پڑھنے میں حرج نہیں۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن غیر عالم کے نعتیہ شاعری کرنے کے سخت خلاف تھے چُنانچِہ فتاوٰی رضویہ شریف سے جاہِل نعت گویوں کی مَذمَّت کے دو اِقتِباسات مُلا حَظہ ہوں:(1)وہ پڑھنا سُننا جو مُنکَراتِ شَرعِیَّہ (یعنی شرعی مُمانَعَتوں)پر مشتمل ہو،ناجائز ہے، جیسے رِوایاتِ باطِلہ(یعنی من گھڑت رِوایتوں)و حِکایاتِ مَوضُوعہ (یعنی بناوٹی حِکایتوں)واَشعار ِخلافِ شَرع خُصُوصاً جن میں توہینِ انبیاء و ملائکہ علیھم الصلوٰۃ والسلام ہو کہ آج کل کے جاہِل نعت گویوں کے کلام میں یہ بَلا ئے عظیم بکثرت ہے حالانکہ وہ (یعنی نبیوں اور فِرِشتوں کی توہین)صَرِیح کلِمۂ کُفرہے ۔ العِیاذُ بِاللہِ تعالٰی۔ وَاللہُ تَعالٰی اَعلَمُ۔
(فتاوٰی رضویہ ج 23 ص 722)
(2)(جاہِل
Flag Counter