فِراق ، مدینۂ منوّرہ کی حاضِری کی تڑپ یا ''استِغاثہ''یعنی فریاد پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں فریاد کرنا اور امداد طلب کرنا بے شک جائز ہے۔ مُتَذَکَّرہ تمام کلام عرفِ عام میں نعت ہی کہلاتے ہیں اور اس میں حرج بھی نہیں۔ نعت کے مَعنوی اعتبار سے نعتیہ اشعار لکھنا بَہُت دشوار ہوتا ہے۔ اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن اس فن میں بھی ماہِر تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حقیقی معنوں میں بھی مُتَعَدَّد نعتیں لکھی ہیں مَثَلاً ''سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی'' ''زمین و زماں تمہارے لئے''وغیرہ۔ نیز دیگر کلاموں میں بھی بے شمار نعتیہ اشعار پائے جاتے ہیں۔ نعت لکھنے کا اُسلُوب بھی کیسا لاجواب ہے چُنانچِہ فرماتے ہیں ؎