Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
228 - 692
جاگتے میں دیدارِ الہٰی کے دعویدار کا شرعی حکم
سُوال:اگر کوئی دعویٰ کرے کہ''میں نے جاگتی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی ذات کادیدار کیا ہے'' اُس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب :دنیا میں جاگتی آنکھوں سے پروردگارعَزَّوَجَلَّ کا دیدار صرف صرف سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا خاصّہ ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص دنیا میں جاگتی حالت میں دیدارِ الہٰی کا دعویٰ کرے اُس پر حکمِ کفر ہے جبکہ ایک قول اس بارے میں گمراہی کا بھی ہے چنانچِہ سیِّدُنامُلاعلی قاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری مِنحُ الرَّوْض میں لکھتے ہیں:اگر کسی نے کہا میں اللہ تعالیٰ کو دنیا میں آنکھ سے دیکھتا ہوں یہ کہنا کفر ہے۔مزید لکھتے ہیں :جس نے اپنے لیے دیدارِ خدا وندی کا دعویٰ کیا اور یہ بات صَراحت کے ساتھ (یعنی بالکل واضح طور پر)کی اور کسی تاویل کی گنجائش نہیں چھوڑی تو اس کایہ اِعتِقاد فاسِد ا و ر دعوٰی غَلَط ہے وہ گمراہی کے گڑھے میں ہے اور دوسرے کو گمراہ کرتا ہے۔
 (مِنحُ الرّوض ص354،356 )
کیا خواب میں دیدارِ الہٰی ممکن ہے؟
سُوال:کیا خواب میں دیدارِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ ہو سکتا ہے؟
Flag Counter