جواب :دنیا میں جاگتی آنکھوں سے پروردگارعَزَّوَجَلَّ کا دیدار صرف صرف سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا خاصّہ ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص دنیا میں جاگتی حالت میں دیدارِ الہٰی کا دعویٰ کرے اُس پر حکمِ کفر ہے جبکہ ایک قول اس بارے میں گمراہی کا بھی ہے چنانچِہ سیِّدُنامُلاعلی قاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری مِنحُ الرَّوْض میں لکھتے ہیں:اگر کسی نے کہا میں اللہ تعالیٰ کو دنیا میں آنکھ سے دیکھتا ہوں یہ کہنا کفر ہے۔مزید لکھتے ہیں :جس نے اپنے لیے دیدارِ خدا وندی کا دعویٰ کیا اور یہ بات صَراحت کے ساتھ (یعنی بالکل واضح طور پر)کی اور کسی تاویل کی گنجائش نہیں چھوڑی تو اس کایہ اِعتِقاد فاسِد ا و ر دعوٰی غَلَط ہے وہ گمراہی کے گڑھے میں ہے اور دوسرے کو گمراہ کرتا ہے۔