صدرُ الافاضِل حضرتِ علامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں: ستائیسویں رجب کو معراج ہوئی ۔ مکّۂ مکرَّمہ سے حُضُور پُر نور(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا بَیْتُ المقدَّس تک شب کے چھوٹے حصّہ میں تشریف لے جانانصِّ قراٰنی سے ثابِت ہے۔ اِس کا منکر(انکار کرنے والا) کافِر ہے اور آسمانوں کی سَیر اورمَنازِلِ قُرب میں پہنچنااحادیثِ صَحِیْحَہ مُعتَمَدہ مَشہُورَہ (صَحِی۔ حَہ، مُع۔تَ۔ مَدَہٗمَش۔ہُورَہ)سے ثابِت ہے جو حدِّتَو اتُر کے قریب پَہنچ گئی ہیں اس کا مُنکِر(انکار کرنے والا) گمراہ ہے۔ مِعراج شریف بحالتِ بیداری جسم و روح دونوں کے ساتھ واقع ہوئی،یہی جمہور اہلِ اسلام کا عقیدہ ہے اور اَصحابِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی کثیر جماعتیں اور حُضُور(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے اَجِلّۂ اَصحاب اِسی کے مُعتَقِد ہیں۔