یونہی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کے بِغیر کسی کیلئے ایک ذرّے کا علم یا ایک ذرّے کی مِلکیَّت ثابِت کرنے والا کافر ہے ۔ اہلِسنَّت کا یہی عقیدہ ہے کہ انبیاء و اولیاء کو جو غیب کا علم ہے یا ان میں دیگر جو بھی صِفات پائی جاتی ہیں وہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے ہیں۔
''نبیِّ پاک کا گستاخ دوزخ میں جائے گا''کے چھبّیس حُرُوف کی نسبت سے سرکارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی گستاخی کے مُتَعلِّق کفرِیّات کی26مثالیں
(1)جو یہ مانے کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد کسی کو نُبُوَّت ملی یا
(2)اسے جائز جانے وہ کافر ہے۔
(ماخوذ ازبہارِ شریعت حصہ 1 ص40 مکتبۃ المدینہ)
(3)آیتِ خاتَمُ النَّبِیِّین کے مشہور معنیٰ میں کسی قسم کی تاویل یا تخصیص کُفر ہے۔
(ماخوذ ازفتاوٰی رضویہ ج14 ص 333)
(4)جونُبُوَّت کا دعویٰ کرنے والے سے مُعجِزہ طلب کرے وہ کافِر ہے البتَّہ اگر اُس کے عِجز(یعنی بے بسی) کے اِظہار کے لئے ہوتوکُفر نہیں ۔