| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن عشق کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:مَحَبَّت بمعنی لُغوی جب پُختہ اورمُؤَکَّدہ(یعنی مَحَبَّت جب بَہُت زیادہ پکّی )ہو جائے تو اسی کو عشق کا نام دیا جاتا ہے پھر جس کی اللہ تعالیٰ سے پختہ مَحَبَّت ہو جائے اور اس پرپُختَگیِٔ مَحَبَّت کے(اس طرح)آثار ظاہِر ہو جائیں کہ وہ ہمہ اوقات اللہ تعالیٰ کے ذکرو فکر اور اس کی اطاعت میں مصروف رہے تو پھر کوئی مانِع(یعنی رکاوٹ)نہیں کہ اس کی مَحَبَّت کو عشق کہا جائے ، کیونکہ مَحَبَّت ہی کا دوسرا نام عشق ہے۔
(فتاوٰی رضویہ ج21 ص 115تا 116)
عاشقِ رسول کی 6نشانیاں
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان نے اپنی کتابِ مُستَطاب شانِ حبیبُ الرحمٰن صَفْحَہ 295 پر''عاشق''کی تعریف میں شیخ سعدی علیہ رحمۃ القوی کے دو فارسی اشعار نقل کیے ہیں:
عاشِقاں راشَش نِشاں اَست اے پِسَر آہِ سَرد ورنگِ زَرد وچشمِ تَر گر تُرا پُر سَنْد سہ دیگر کُدام کم خور و کم گُفتَن و خُفْتَن حرام