Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
218 - 692
خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: ناجائز ہے۔(مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں)معنیٔ عشق اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حق میں مُحالِ قطعی (یعنی قطعاً ناممکن)ہے اور ایسا لفظ بے وُرودِ ثبوتِ شرعی(یعنی شرعی ثبوت کے بغیر )حضرت عزّت (یعنی اللہ ربُّ العزّت عَزَّوَجَلَّ )کی شان میں بولنا ممنوعِ قَطْعی۔رَدُّالْمُحتَار میں ہے:معنیٔ مُحال کا وہم ممانعت کیلئے کافی ہے ۔
 ( فتاوٰی رضویہ ج 21 ص 116)
کیا کسی کو عاشقِ رسول کہہ سکتے ہیں؟
سُوال:کیا کسی کو عاشقِ الٰہی یا عاشقِ رسول بھی نہیں کہہ سکتے؟
جواب:اگروہ اِس کا اہل ہو تو کہنے میں کوئی مُضایَقہ نہیں۔ مَحَبَّت اور عشق کے معنیٰ میں قَدرے فرق ہے۔ دراصل اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے مَحَبَّت تو ہر مسلمان کرتا ہی ہے مگر ''عاشق'' کا دَرجہ کوئی کوئی پاتا ہے۔عشق کامعنیٰ بیان کرتے ہوئے عربی لغت''لسانُ العرب ''جلد2 صَفَحہ 2635 پر ہے:
اَلْعِشْقُ فَرْطُ الْحُبِّ
یعنی مَحَبَّت میں حد سے تجاوُز کرنا عشق ہے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا
Flag Counter