لعنتوں کا اِستِحقاق پاتا ہیمگر اُس نے مکان اور کُوچہ میں تردید سے تعمیم کوروکا اور''نہو گا''کے لفظ سے جَزم میں فرق ڈالا(یعنی لفظ ''نہو''گاکہنے سے کچھ بچت ہو گئی اگر''نہو گا ''کے بجائے ''نہیں ہے''کے الفاظ بولدیتا تو
صریح تہمتِ زنا لگانے والاقرار پاتا جس کا حکم آگے گزرا۔ پھر بھی اس قَدَر میں شک نہیں کہ اس نے وہاں کے عام مسلمان مردوں بیبیوں کی حُرمت پر دھبّا لگایا اور اسے خاص مجلسِ وَ عظ میں کہہ کر مسلمانوں کو ناحق بدنام کرنے اور ان میں اشاعتِ فاحِشہ کا بوجھ اپنی گردن پر اٹھایااور بکثرت مسلمانوں کو بِلا وَجہِ شَرعی اِیذا دی۔ رسولُ اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں: