بھاری بات ہے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن کا ایک مقّرر کے بارے میں فتویٰ مُلاحَظہ فرمایئے :جس نے جلسہ میں بمبئی کے سارے مسلمانوں کی طرف بُرائی منسوب کرنے کی ناپاک سعی کی تھی۔ چُنانچِہ فرماتے ہیں:اُس کا کہنا کہ''بمبئی میں کوئی مکان یا گلی کُوچہ ایسا نہ ہو گا جس میں شبانہ روز(یعنی دن رات)زِنا نہ ہوتا ہو۔''اگر وہ تعمیم وتَصمیم کرتا(یعنی اگر وہ ایسے الفاظ بولتا جس سے ہر ہر فرد کا یقینی طور پر زنا میں مُلَوَّث ہونا سمجھا جاتا جب)تو بمبئی کے لاکھوں مسلمان مردوں، مسلمان پارسا بیبیوں پر صریح تُہمتِ مَلعونۂ زِنا تھی ، جس کے سبب وہ (مقرِّر)لاکھوں قَذف(1)کا مُرتکِب ہوتا اور ایک ہی قَذف گناہِ کبیرہ ہے اورقَذف کرنے والے پر لعنت آئی ہے تو وہ ایک سانس میں لاکھوں گناہِ کبیرہ کا مُرتکِب ہوتا اور لاکھوں