نِہایت مُبْتَذَل (یعنی حقیر)و ذلیل ہے، ایسے الفاظ سے احتراز کرے(یعنی بچے) اور توبہ کرے اور تجدیدِ نکاح کرے۔ مسلما ن با رگاہِ اقدس میں عرض کیا کرتے تھے:راعِنا۔یعنی ہماری رِعایت فرمایئے !یہود موقع پا کر زَبان دباکر اس طرح کہتے کہ بظاہِر تو وُہی(راعِنا)معلوم ہوتا مگر وہ کہتے : ''راعِیْنا''یعنی''ہمارے چرواہے۔''اِس پر آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ، اِس لفظِ ''راعِنا''سے مُمانَعَت فرما کر یہ حکم دیا کہ ''اُنْظُرْ نا''کہو یعنی ''ہماری طرف نظر فرمایئے''(کہا کرو)تو جس لفظ سے راعی(یعنی چرواہا)کا اِیہامِ بعید(یعنی دُور کا شبہ پڑتا)تھا اس تک سے مُمانَعَت فرمائی گئی ، تو ظاہِر ہے کہ خود اس(چرواہا کہنے)کی مُمانَعَت کس دَرجہ ہو گی ۔خُصُوصاً یہ اُردو کا لفظ(چرواہا)تو نہایت سَخِیف(یعنی انتہائی گھٹیا)ہے۔ (سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بارے میں) اُمّت کے نگہبان و محافظ وغیرہ الفاظ بولنا چاہئے۔ وَاللہُ تَعالٰی اَعْلمُ۔