میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن کی بارگاہِ عالی شان میں کچھ اِس طرح سُوال ہوا:سُنّیوں کے مَحَلّے میں ایک قادِیانی نیا نیا رہنے آیا ۔ غَیُورسُنّیوں نے اہلِ مَحَلّہ کو اس سے مَیل جُول کرنے اور کسی قسم کا تعلُّق رکھنے سے مَنع کیا۔ اِس پر ایک عورت نے یوں کہا:''بڑے نَمازِیئے پڑھ کرمُلّا ہو گئے ، ہم عذاب ہی بُھگَت لیں گے ، اِس بے چارے قادِیانی کو دِق(یعنی تنگ)کر رکھا ہے۔''اِس عورت کے بارے میں شَرعی حکم کیا ہے؟ الجواب :یہ عورت نَماز کی تَحقیر کرنے ، عذابِ الٰہی کو ہلکا ٹھہرانے ، قادِیانی(مُرتَد)کو اِس فِعلِ مسلماناں(یعنی بائیکاٹ کرنے کا کہنے کے سبب) سے مظلوم جاننے اور اس سے مَیل جُول ترک کرنے کو ظلم و ناحق سمجھنے کے سبب اسلام سے خارِج ہوگئی ۔ اپنے شوہر پر حرام ہو گئی ، جب تک ان کلمات سے توبہ کر کے نئے سِرے سے اسلام نہ لائے۔