(22)اگر کوئی قرآنِ عظیم میں موجود انبِیاء کے واقِعات یا(23)رسولوں کے مُعجِزات کا اِنکار کرے یا (24)قرآنِ کریم میں جو چِیونٹیوں اور(25)ہُدہُد کے کلام کرنے کا تذکِرہ ہے اس میں شک کرے یا (26)حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللہ علٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور جادوگروں کے قصّے(27)واقعہئ اَسْرٰی (مسجد حرام سے مسجدِ اقصٰی تک)(28)اَصحابِ فیل اور(29)ان پر حملہ کرنے والے اَبابِیل پرندوں کے واقِعات (30)اَصحابِ کَہْف کا قصّہ (31)حضرت سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے آگ میں ڈالے جانے کا واقِعہ وغیرہ وغیرہ قِصَصِ قرآن(یعنی قراٰنِ پاک میں بیان کردہ قِصّوں) کے سچّاہونے میں شک کرے وہ کافِرہے۔جب کہ اصل واقِعے کے وُجُود ہی کا انکار کرے ۔البتّہ اس کی کوئی ایسی تفصیل جو قرآنِ پاک میں صَراحت سے (یعنی صاف صاف)مذکور نہیں ہے اس کے انکار پر حکمِ کفر نہیں ہے۔